(۷۸۲۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ أَیُّوبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو إیَاسٍ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ ، قَالَ : کُنْتُ نَازِلاً عَلَی عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَلَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ جَائَہُ رَجُلٌ بِأَلْفَیْ دِرْہَمٍ مِنْ قِبَلِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : إنَّ الأَمِیرَ یُقْرِئُکَ السَّلاَمَ وَیَقُولُ : إنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِیفًا إِلاَّ قَدْ وَصَلَ إلَیْہِ مِنَّا مَعْرُوفٌ فَاسْتَعِنْ بِہَذَیْنِ عَلَی نَفَقَۃِ شَہْرِکَ ہَذَا ، فَقَالَ عَمْرٌو : اقْرَأْ عَلَی الأَمِیرِ السَّلاَمَ وَقُلْ وَاللَّہِ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِیدُ بِہِ الدُّنْیَا وَرَدَّہُ عَلَیْہِ۔
(٧٨٢٠) حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے یہاں مہمان تھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ایک آدمی ان کے پاس مصعب بن زبیر کی طرف سے دو ہزار درہم لے کر آیا اور اس نے کہا کہ امیر آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قابل احترام قاری کو اپنی طرف سے یہ ہدیہ دیا ہے، آپ اس مہینے میں اپنی ضروریات ان پیسوں سے پوری کیجئے۔ حضرت عمرو نے اس سے فرمایا کہ اپنے امیر کو ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ بخدا ! ہم نے قرآن کو دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں پڑھا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رقم اسے واپس کردی۔