(۷۸۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : لَمْ یُخْبِرْنَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الضُّحَی إِلاَّ أُمَّ ہَانِیئٍ فَإِنَّہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْتِی یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ یُخَفِّفُ فِیہِنَّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، لَمْ أَرَہُ صَلاَّہُنَّ قَبْلَ یَوْمَئِذٍ وَلاَ بَعْدَہُ۔ (بخاری ۱۱۰۳۔ ابوداؤد ۱۲۸۵)
(٧٨٩١) حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ام ہانی کے علاوہ ہمیں کسی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چاشت کی نماز کے بارے میں نہیں بتایا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے، آپ نے غسل فرمایا پھر چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں، ان رکعات میں آپ نے رکوع و سجود کو مختصر فرمایا۔ میں نے اس دن سے پہلے اور بعد میں کبھی آپ کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔