(۷۹۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَہُمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَکُمْ ؟ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَیْنَاک خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا ، فَقَالَ : إنَّ جِبْرِِیلَ أَتَانِی فَأَخْبَرَنِی أَنَّ فِیہِمَا خَبَثًا فَإِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ إلَی الْمَسْجِدِ فَلْیَقْلِبْ نَعْلَیْہِ وَلْیَنْظُرْ فِیہِمَا فَإنْ رَأی فِیہِمَا خَبَثًا فَلْیَمْسَحْہُ بِالأَرْضِ وَلْیُصَلِّ فِیہِمَا۔ (احمد ۳/۲۰۔ دارمی ۱۳۷۸)
(٧٩٧٤) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار لئے۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم نے جوتے کیوں اتارے ؟ انھوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ آپ نے فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے تو اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی تو اسے زمین سے مل کر صاف کرلے اور انہی میں نماز پڑھ لے۔