(۷۹۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَص ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَی أَبَا مُوسَی فِی دَارِہِ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی لِعَبْدِ اللہِ : تَقَدَّمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَنْتَ أَحَقُّ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ : عَبْدُ اللہِ أَبِالْوَادِی الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟۔ (عبدالرزاق ۱۵۰۷)
(٧٩٧٨) حضرت ابو الاحوص کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ کے پاس آئے، جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابوموسیٰ نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ آپ زیادہ حق دار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ نماز کے لیے آگے بڑھے اور اپنے جوتے اتار دیئے۔ اس پر حضرت عبداللہ نے کہا کہ کیا آپ مقدس وادی میں ہیں ؟