(۸۰۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمِنْہَالُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَطِیفُ بِالْعَبْدِ لِیَقْطَعَ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ فَإِذَا أَعْیَاہُ نَفَخَ فِی دُبُرِہِ فَلاَ یَنْصَرِفْ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ یَجِدَ رِیحًا ، وَیَأْتِیہِ فَیَعْصِرُ ذَکَرَہُ فَیُرِیہِ أَنَّہُ أُخْرِجَ مِنْہُ شَیْئٌ فَلاَ یَنْصَرِفْ حَتَّی یَسْتَیْقِنَ۔
(٨٠٩١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ شیطان بعض اوقات نماز میں آدمی کو وسوسہ ڈالتا ہے تاکہ اس کی نماز کو توڑ دے، بندہ جب تنگ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے۔ پس جب تک کوئی آواز نہ سنائی دے یا کوئی بو محسوس نہ ہو اس وقت تک نماز نہ توڑو۔ اسی طرح وہ آکر اس کے ذکر کو ہاتھ لگاتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے، پس یہ اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک اسے یقین نہ ہوجائے۔