(۸۰۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ وَأَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الرَّجُلِ یَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذْیُ فَکُلُّہُمْ قَالَ: أُنْزِلُہُ بِمَنْزِلَۃِ الْقُرْحَۃِ، مَا عَلِمْتَ مِنْہُ فَاغْسِلْہُ وَمَا غَلَبَکَ مِنْہُ فَدَعْہُ۔
(٨٠٩٦) حضرت محمد بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب، حضرت عروہ بن زبیر، حضرت سلیمان بن یسار اور حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس سے مذی خارج ہو۔ ان سب نے فرمایا کہ اسے پھنسی کی طرح سمجھو، جو نظر آجائے اسے دھو لو اور جو تم پر غالب آجائے اسے چھوڑ دو ۔