(۸۱۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ ، قَالَ: بَیْنََا أَنَا أُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ : یَرْحَمُک اللَّہُ ، فَرَمَی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ ، فَقُلْتُ : وَاثُکْلَ أُمَّاہُ مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إلَیَّ ؟ قَالَ : فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُصْمِتُونَنِی سَکَتُّ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ مِثْلَہُ قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہِ مَا کَہَرَنِی ، وَلاَ شَتَمَنِی ، وَلاَ ضَرَبَنِی ، قَالَ : إنَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ إنَّمَا ہِیَ التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیرُ وَقِرَائَۃُ الْقُرْآنِ ، أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۳۸۱۔ ابوداؤد ۹۲۷)
(٨١٠٤) حضرت معاویہ بن حکم سلمی فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے نماز میں چھینک ماری، میں نے اسے یرحمک اللہ کہا۔ لوگوں نے گھور کر مجھے دیکھنا شروع کردیا۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے ! تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارنا شروع کردیا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ لوگ مجھے خاموش کر ارہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا فرمالی، میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہ کوئی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے مارا۔ پھر فرمایا کہ یہ نمازیں لوگوں کے کلام کی صلاحیت نہیں رکھتیں، نماز تو نام ہے تسبیح وتکبیر اور تلاوت کا۔