(۸۱۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ : أَنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِیہِ رَجُلٌ یُصَلِّی عَاقِصًا شَعْرَہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ عَبْدُ اللہِ : إذَا صَلَّیْت فَلاَ تَعْقِصْ شَعْرَکَ ، فَإِنَّ شَعْرَکَ یَسْجُدُ مَعَکَ وَلَکَ بِکُلِّ شَعَرَۃٍ أَجْرٌ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إنِّی أَخَافُ أَنْ یَتْرَبَ ، فَقَالَ : تَتْرِیبُہُ خَیْرٌ لَک۔
(٨١٣٠) حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بالوں کو باندھ کر نماز پڑھ رہا ہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنے بالوں کی چوٹیاں نہ باندھو، کیونکہ تمہارے بال بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرتے ہیں، اور تمہیں ہر بال کے سجدے کا ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے بال تتر بتر نہ ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ان کا بکھرنا ان کے باندھنے سے بہتر ہے۔