(۸۲۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : خَرَجَ سَلْمَانُ فِی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غُزَاۃً وَسَلْمَانُ أَسَنُّہُمْ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاَۃ قَالُوا لَہُ : تَقَدَّمْ یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی أَتَقَدَّمُ وَأَنْتُمُ الْعَرَبُ مِنْکُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ ، فَتَقَدَّمَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَصَلَّی بِہِمْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلاَۃ قَالَ سَلْمَانُ : وَمَا لِلْمُرْبَعَۃِ ، إنَّمَا کَانَ یَکْفِینَا رَکْعَتَانِ نِصْفُ الْمُرْبَعَۃِ۔
(٨٢٤٤) حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بارہ صحابہ کرام کے ساتھ ایک جنگ کے لیے نکلے، وہ عمر میں ان سب سے زیادہ تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو سب نے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ امامت کرائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں امامت کا استحقاق نہیں رکھتا، تم عرب ہو اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہی میں سے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے۔ اس پر ایک صاحب آگے بڑھے اور انھوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب ہم نے نما زمکمل کرلی تو حضرت سلمان نے فرمایا کہ ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لیے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔