(۸۳۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَمَانِیًا جَمِیعًا وَسَبْعًا جَمِیعًا ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَبَا الشَّعْثَائِ أَظُنُّہُ أَخَّرَ الظُّہْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَائَ ، قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِکَ۔ (بخاری ۵۴۳۔ ابوداؤد ۱۲۰۷)
(٨٣١٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آٹھ رکعتیں ایک ساتھ اور سا ت رکعتیں ایک ساتھ پڑھی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابو الشعثائ ! میرا خیال ہے کہ آپ نے ظہر کی نماز کو تاخیر سے اور عصر کی نماز کو جلدی پڑھا، اور مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی پڑھا۔ انھوں نے فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔