(۸۶۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُصْبِحُ فَیَرَی عَلَی ذَکَرِہِ الْبِلَّۃَ ، قَالَ : إِنْ کَانَ یَرَی أَنَّہُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ یَرَی أَنَّہُ احْتَلَمَ لَمْ یَغْتَسِلْ۔
وَقَالَ قَتَادَۃُ: إِنْ کَانَ مَائً دَافِقًا اغْتَسَلَ، فَقُلْتُ لِقَتَادَۃَ: کَیْفَ یَعْلَمُ؟ قَالَ: یَشَمُّہ، وَقَالَ الْحَکَمُ: لاَ یَغْتَسِلُ۔
(٨٦٧) حضرت حماد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو صبح اپنے آلہء تناسل پر تری دیکھے تو فرمایا کہ اگر احتلام یاد ہو تو غسل کرے اور اگر یاد نہ ہو تو غسل لازم نہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اگر پانی جھٹکے سے نکلا ہے تو غسل کرے۔ میں نے قتادہ سے پوچھا کہ اسے کیسے معلوم ہوگا ؟ فرمایا وہ سونگھ کر پتہ چلا سکتا ہے۔ حضرت حکم فرماتے ہیں کہ وہ غسل نہیں کرے گا۔