(۸۷۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ الْغَطَفَانِیِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ خَطِیبًا ، أَوْ خَطَبَنَا یَوْمَ جُمُعَۃٍ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاس إنَّکُمْ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لاَ أُرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ہَذَا الثُّومَ وَہَذَا الْبَصَلَ ، لَقَدْ کُنْتُ أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوجَدُ رِیحُہُ مِنْہُ فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ حَتَّی یُخْرَجَ بِہِ إلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ آکِلَہُمَا لاَبُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔ (مسلم ۳۹۷۔ احمد ۱/۲۷)
(٨٧٤٩) حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم دو سبزیاں ایسی کھاتے ہو جو میرے خیال میں بری ہیں۔ ایک تھوم اور دوسری پیاز۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ مبارک میں اگر کوئی ان سبزیوں کو کھاتا اور اس کے منہ سے ان کی بدبو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت البقیع کی طرف لے جایاجاتا تھا۔ اگر کسی نے انھیں کھانا بھی ہو تو انھیں پکا کر ان کی بو کو مار دے۔