hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 8755

.

ابن أبي شيبة

8755
Ibn Abi Shaybah
(۸۷۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِی مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُُ مَعَ أَبِی ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : کَانَ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْہَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کَانَتْ تَکُونُ عَلَی عَہْدِ الأَنْبِیَائِ ، فَإِذَا ذَہَبُوا رُفِعَتْ ؟ قَالَ: لاَ ، وَلَکِنْ تَکُونُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَأَخْبِرْنَا بِہَا ، قَالَ : لَوْ أُذِنَ لِی فِیہَا لأَخْبَرْتُکُمْ ، وَلَکِنِ الْتَمِسُوہَا فِی أَحَدِ السَّبْعَیْنِ ، ثُمَّ لاَ تَسْأَلْنِی عَنْہَا بَعْدَ مَقَامِی ، أَوْ مَقَامِکَ ہَذَا ، ثُمَّ أَخَذَ فِی حَدِیثٍ ، فَلَمَّا انْبَسَطَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَقْسَمْتُ عَلَیْک إِلاَّ حَدَّثْتنِی بِہَا ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضْبَۃً لَمْ یَغْضَبْ عَلَیَّ قَبْلَہَا ، وَلاَ بَعْدَہَا مِثْلَہَا۔ (نسائی ۳۴۲۷۔ ابن خزیمۃ ۲۱۷۰)
(٨٧٥٥) حضرت ابو مرثد فرماتے ہیں کہ میں جمرہ وسطیٰ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری کے پاس تھا۔ میں نے ان سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شب قدر کے بارے میں سب سے زیادہ سوال میں کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شبِ قدر انبیاء کے زمانوں میں ہوتی ہے، جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جاتے تو یہ رات بھی اٹھا لی جاتی تھی، کیا ایسا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ شبِ قدر قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر مجھے اس کے بارے میں بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس کے بتانے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا۔ البتہ میں اتنا کہوں گا کہ تم اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں سے ایک میں تلاش کرو۔ اب تم مجھ سے اس بارے میں سوال مت کرنا۔
اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری باتوں میں مشغول ہوگئے۔ جب آپ کی طبیعت مبارکہ میں مجھے انبساط محسوس ہوا تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں آپ کو قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ مجھے اس رات کے بارے میں بتا دیجئے۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجھ پر اتنا غصہ آیا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد میں نے آپ کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔