(۸۸۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذُکِرَ لَہُ أَنَّ الْمَرْأَۃَ وَالْحِمَارَ وَالْکَلْبَ یَقْطَعُونَ الصَّلاَۃ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : (إلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ) لاَ یَقْطَعُ الصَّلاَۃ شَیْئٌ ، وَلَکِنَّہُ یُکْرَہُ۔
(٨٨٥٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ کیا عورت، گدھے اور کتے کے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ انھوں نے جواب میں اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی {إلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ } یعنی پاکیزہ کلمے اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل بھی اسی کی طرف بلند ہوتا ہے۔ پھر فرمایا نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔