(۸۸۷) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَطَائٍ وَأَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَاہِدٍ قَالُوا : إنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ ، قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ! الْمَرْأَۃُ تَرَی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ ، أَیَجِبُ عَلَیْہَا الْغُسْلُ ؟ قَالَ : ہَلْ تَجِدُ شَہْوَۃً ؟ قَالَتْ : لَعَلَّہُ ! قَالَ : ہَلْ تَجِدُ بَلَلاً ؟ قَالَتْ : لَعَلَّہُ ! قَالَ : فَلْتَغْتَسِلْ فَلَقِیَتْہَا نِسْوَۃٌ فَقُلْنَ لَہَا : فَضَحْتینَا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : وَاللَّہِ مَا کُنْتُ لأَنْتَہِیَ حَتَّی أَعْلَمَ فِی حِلٍّ أَنَا ، أَوْ فِی حَرَامٍ۔
(٨٨٧) حضرت ام سلیم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا اس پر غسل واجب ہے ؟ فرمایا کہ کیا اسے شہوت محسوس ہوئی ؟ عرض کیا شاید۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا وہ تری دیکھتی ہے ؟ عرض کیا شاید۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اسے غسل کرنا چاہیے پھر کچھ عورتیں حضرت ام سلیم سے ملیں اور کہا کہ آپ نے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رسوا کردیا۔ وہ کہنے لگیں کہ میں حلال و حرام کا سوال کرنے سے باز نہیں رہ سکتی۔