hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 8895

.

ابن أبي شيبة

8895
Ibn Abi Shaybah
(۸۸۹۵) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لَمَّا اُنْطُلِقَ بِحُجْرٍ إلی مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ أَنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : لأَقْتُلَنَّکَ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِہِ لِیُقْتَلَ ، قَالَ : دَعُونِی أُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ تَجَوَّزَ فِیہِمَا ، فَقَالَ : لاَ تَرَوْنَ أَنِّی خَفَّفْتُہُمَا جَزَعًا ، وَلَکِنِّی کَرِہْت أَنْ أُطَوِّلَ عَلَیْکُمْ ، ثُمَّ قُتِلَ۔
(٨٨٩٥) حضرت محمد کہتے ہیں کہ جب حجر بن عدی کو حضرت معاویہ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! آپ پر سلامتی ہو ! حضرت معاویہ نے فرمایا کہ کیا میں امیر المؤمنین ہوں ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں پھر بھی تجھے قتل کروں گا۔ پھر آپ نے حجر بن عدی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ حجر نے کہا کہ مجھے دو رکعت پڑھنے کی اجازت دیجئے۔ اجازت ملنے پر انھوں نے دو مختصر رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کسی خوف کی وجہ سے مختصر نماز پڑھی بلکہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں تمہارے سامنے لمبی نماز پڑھوں۔ پھر انھیں قتل کردیا گیا۔