(۸۹۹۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی لَقِیطٌ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : کُنَّا فِی الْبَحْرِ فَبَیْنَا نَحْنُ نَسِیرُ وَقَدْ رَفَعْنَا الشِّرَاعَ ، وَلاَ نَرَی جَزِیرَۃً ، وَلاَ شَیْئًا إذْ سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُنَادِی : یَا أَہْلَ السَّفِینَۃِ ، قِفُوا أُخْبِرْکُمْ فَقُمْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَرَ شَیْئًا، فَنَادَی سَبْعًا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّابِعَۃُ قُمْتُ فَقُلْتُ : یَا ہَذَا ، أَخْبِرْنَا مَا تُرِیدُ أَنْ تُخْبِرَنَا بِہِ فَإِنَّک تَرَی حَالَنَا ، وَلاَ نَسْتَطِیعُ أَنْ نَقِفَ عَلَیکَ ، قَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِقَضَائٍ قَضَاہُ اللَّہُ عَلَی نَفْسِہِ ؟ أَیُّمَا عَبْدٍ أَظْمَأَ نَفْسَہُ فِی اللہِ فِی یَوْمٍ حَارٍّ أَرْوَاہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ زَادَ أَبُو أُسَامَۃَ : فَکُنْتَ لاَ تَشَائُ أَنْ تَرَی أَبَا مُوسَی صَائِمًا فِی یَوْمٍ بَعِیدٍ مَا بَیْنَ الطَّرَفَیْنِ إِلاَّ رَأَیْتَہُ۔
(٨٩٩٤) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سمندر میں سفر کررہے تھے، ہم نے اپنے بادبان بلند کر رکھے تھے۔ ہمیں کوئی جزیرہ دکھائی نہ دے رہا تھا اور نہ کوئی دوسری چیز ہمیں نظر آرہی تھی۔ اتنے میں ہمیں آواز آئی اے کشتی والو ! ٹھہر جاؤ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ ہم کھڑے ہو کر دیکھنے لگے لیکن ہم کو کچھ نظر نہ آیا۔ اس پکارنے والے نے سات مرتبہ آواز دی۔ ساتویں مرتبہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ تو جو کوئی بھی ہے ہمیں وہ بات بتادے جو بتانا چاہتا ہے، تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ ہم تیرے پاس کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس نے کہا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے ! وہ یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے لیے خود کو ایک گرم دن میں پیاسا رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سیراب فرمائیں گے۔ ابو اسامہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کبھی حضرت ابو موسیٰ کو بغیر روزے کے نہ دیکھ سکتے تھے۔