(۹۱۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی یَزِیدَ ، عَنْ أُمِّ ذَرَّۃَ قَالَتْ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ : مِنْ أَیْنَ جِئْت؟ فَقُلْتُ: مِنْ عِنْدِ أَخِی ، فَقَالَتْ : مَا شَأْنُہُ ؟ قُلْتُ : وَدَّعْتُہُ یُرِیدُ أَنْ یَرْتَحِلَ ۔ قَالَتْ : فَأَقْرِئِیہِ مِنِّی السَّلاَمَ، وَمُرِیہِ فَلْیَقُمْ ، فَلَوْ أَدْرَکَنِی وَأَنَا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ لأَقَمْتُ ، یَعْنِی رَمَضَانَ۔
(٩١٠٣) حضرت ام ذرہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوئی انھوں نے کہا کہ تم کہاں سے آرہی ہو ؟ میں نے کہا میں اپنے بھائی کے پاس سے آرہی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کیا حال ہے ؟ میں نے کہا میں اسے رخصت کرکے آئی ہوں وہ سفر پر جانا چاہتا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اسے میری طرف سے سلام کہنا اور اس کو حکم دینا کہ ابھی مقیم رہے جب تک رمضان ہے۔ اگر وہ مجھے کہیں مل گیا تو میں اسے روکوں گی۔