(۹۱۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : غَزَوْت مَعَ زِیَادِ بْنِ النَّضْرِ أَرْضَ الرُّومِ ، قَالَ: فَأَہْلَلْنَا رَمَضَانَ فَصَامَ النَّاسُ وَفِیہِمْ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ ؛ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَسُمَیْعٌ ، وَأَبُو عَبْدِ اللہِ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، وَأَبُو مُسَافِعٍ فَأَفْطَرَ النَّاسُ یَوْمًا وَالسَّمَائُ مُتَغَیِّمَۃٌ ، وَنَحْنُ بَیْنَ جَبَلَیْنِ ؛ الْحَارِثِ وَالْحُوَیْرِثِ ، وَلَمْ أُفْطِرْ أَنَا حَتَّی تبدّی اللَّیْل ، ثُمَّ إنَّ الشَّمْسَ خَرَجَتْ فَأَبْصَرْنَاہَا عَلَی الْجَبَلِ ، فَقَالَ زِیَادٌ : أَمَّا ہَذَا الْیَوْمُ فَسَوْفَ نَقْضِیہِ ، وَلَمْ نَتَعَمَّدْ فِطْرَہُ۔
(٩١٤٨) حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سرزمین روم میں حضرت زیاد بن نضر کے ساتھ تھا۔ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا تو لوگوں نے روزہ رکھا جن میں حضرت عبداللہ، عامر بن سعد، سمیع، ابوعبداللہ، ابو معمر اور ابو مسافع تھے۔ لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا اس دن آسمان پر بادل تھے۔ ہم حارث اور حویرث نامی دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ میں نے اس وقت تک افطار نہ کیا جب تک رات ظاہر نہ ہوگئی۔ پھر سورج نکلا اور ہم نے پہاڑوں پر اسے دیکھا۔ تو زیاد نے کہا کہ ہم اس دن کی قضا کریں گے اور ہم نے اس روزے کا اعتبارنہ کیا۔