(۹۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ یُصِیبُہُ الْمَنِیُّ، أَیَغْسِلُہُ أَوْ یَغْسِلُ الثَوْبَ کُلَّہُ ؟ قَالَ سُلَیْمَانُ : قَالَتْ عَائِشَۃُ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصِیبُ ثَوْبَہُ فَیَغْسِلُہُ مِنْ ثَوْبِہِ ، ثُمَّ یَخْرُجُ فِی ثَوْبِہِ إلَی الصَّلاَۃِ ، وَأَنَا أَرَی أَثَرَ الْغَسْلِ فِیہِ۔ (بخاری ۲۲۹۔ مسلم ۲۳۹)
(٩١٨) حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ اگر کپڑے کو منی لگ جائے تو منی کی جگہ کو دھونا ہے یا سارے کپڑے کو دھونا ہے۔ فرمایا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑے پر اگر منی لگ جاتی تو کپڑے سے منی کی جگہ دھو لیتے تھے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، جب کہ مجھے کپڑوں میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا تھا۔