(۹۱۸۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا تَسَحَّرَ الرَّجُلُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ ، فَإِنْ أَفْطَرَ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ ، وَإِنْ ہَمَّ بِالصَّوْمِ فَہُوَ بِالْخِیَارِ ، إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ ، وَإِنْ سَأَلَہُ إنْسَانٌ ، فَقَالَ: أَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ إِلاَّ أَنْ یَقُولَ إِنْ شَائَ اللَّہُ ، فَإِنْ قَالَ فَہُوَ بِالْخِیَارِ ، إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ۔
(٩١٨٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے سحری کھالی تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس پر قضاء واجب ہے۔ اگر اس نے روزے کا محض ارادہ کیا توا سے اختیار ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے۔ اگر کسی نے اس سے سوال کیا کہ کیا تمہارا روزہ ہے ؟ اس نے جواب میں ہاں کہا تو اس پر روزہ واجب ہوگیا۔ البتہ اگر اس نے ان شاء اللہ کہا تو پھر روزہ واجب نہیں ہوا۔ اس صورت میں اسے اختیار ہے چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔