(۹۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ قَالَ : نَزَلَ بِعَائِشَۃَ ضَیْفٌ فَأَمَرَتْ لَہُ بِمِلْحَفَۃٍ صَفْرَائَ ، فَاحْتَلَمَ فِیہَا ، فَاسْتَحْیَی أَنْ یُرْسِلَ بِہَا وَفِیہَا أَثَرُ الإِحْتِلاَمِ ، فَغَمَسَہَا فِی الْمَائِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِہَا ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لِمَ أَفْسَدَ عَلَیْنَا ثَوْبَنَا ؟ إنَّمَا کَانَ یَکْفِیہِ أَنْ یَفْرُکَہُ بِإِصْبَعِہِ ، رُبَّمَا فَرَکْتُہُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِی۔ (ترمذی ۱۱۶۔ مسلم ۱۰۶)
(٩٢٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ہمام ایک مرتبہ مہمان کے طور پر حضرت عائشہ کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ایک زرد چادر ان کے لیے دی جائے۔ حضرت ھمام کو اس میں احتلام ہوگیا۔ انھیں شرم محسوس ہوئی کہ احتلام کے نشان کے ساتھ کپڑا واپس کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے کپڑے کو پانی میں ڈبو کر واپس کیا۔ حضرت عائشہ نے کپڑا دیکھا تو فرمایا انھوں نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے کھرچ دیتے، میں بھی بعض اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں سے اسے کھرچ دیا کرتی تھی۔