(۹۳۲۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ مَوْلَی قُدَامَۃَ حَدَّثَہُ : أَنَّ مَوْلَی أُسَامَۃَ حَدَّثَہُ : أَنَّ أُسَامَۃَ کَانَ یَخْرُجُ إلَی مَالٍ لَہُ بِوَادِی الْقُرَی ، فَیَصُومُ الاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیسَ ، فَقُلْتُ لَہُ : لِمَ تَصُومُ الاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیسَ وَأَنْتَ شَیْخٌ کَبِیرٌ ؟ فَقَالَ : رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُہُمَا ، فَقُلْتُ لَہُ : لِمَ تَصُومُ الاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیسَ ؟ فَقَالَ : إنَّہُمَا یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیہِمَا الأَعْمَالُ۔ (ابوداؤد ۲۴۲۸۔ احمد ۵/۲۰۰)
(٩٣٢٦) حضرت مولی اسامہ کہتے ہیں کہ حضرت اسامہ مکہ میں اپنے مال ومویشی کے پاس جایا کرتے تھے۔ وہاں وہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ بوڑھے ہو کر پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دو دنوں میں روزہ رکھتے دیکھا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اس دن اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔