(۹۳۴۱) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْعَتَکِیِّ ، عَنْ جُوَیْرِیَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہِیَ صَائِمَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَتَصُومِینَ غَدًا ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَأَفْطِرِی۔ (بخاری ۱۹۸۶۔ احمد ۶/۴۳۰)
(٩٣٤١) حضرت ابو ایوب عتکی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن حضرت جویریہ بنت حارث کے پاس تشریف لائے۔ ان کا روزہ تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا کہ کیا کل تمہارا روزہ تھا ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔