(۹۴۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الجَّرَاح ، عَنْ حَاجِبِ بْن عُمَرَ ، عَنِ الحَکَم بْن الأَعْرَجِ ، قَالَ : انْتَہیتُ إِلی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُو مُتَوسِّدٌ رِدَائَہ فِی زَمزَم ، فَقُلتُ : أَخْبِرنِی عَنْ صَومِ عَاشورائَ ؟ فَقَالَ : إِذَا رَأَیْتَ ہِلالَ الْمُحَرَّم فاعْدُدْ، وَأَصبِحْ صَائِماً التَاسِع ، قُلْتُ : ہَکَذَا کَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
(مسلم ۱۳۲۔ ترمذی ۷۵۴)
(٩٤٧٢) حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا وہ زمزم کے کنویں سے ٹیک لگائے بیٹھتے تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے عاشوراء کے روزے کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کے چاند کو دیکھو تو اس دن کی تیاری شروع کردو۔ پھر نو تاریخ کو روزہ رکھو۔ میں نے کہا کہ کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن روزہ رکھا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔