(۹۵۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : أُبَاشِرُ امْرَأَتِی وَأَنَا صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : لاَ ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ ، فَقَالَ : أُبَاشِرُ امْرَأَتِی وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقِیلَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قُلْتَ لِہَذَا نَعَمْ ، وَقُلْتَ لِہَذَا لاَ ؟ فَقَالَ : إنَّ ہَذَا شَیْخٌ وَہَذَا شَابٌّ۔
(٩٥٢٧) حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے معانقہ وغیرہ کرسکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے بھی یہی سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ہاں کرسکتے ہو۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایک آدمی کو اجازت دی اور ایک کو منع کیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک جوان اور دوسرا بوڑھا تھا۔