(۹۵۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ فَدَعَا لِی بِشَرَابٍ ، فَقَالَ : اشْرَبْ ، فَقُلْتُ : لاَ أُرِیدُ ، قَالَ : صَائِمٌ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّی سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ یَقُولُ : إذَا عُرِضَ عَلَی أَحَدِکُمْ طَعَامٌ ، أَوْ شَرَابٌ وَہُوَ صَائِمٌ ، فَلْیَقُلْ : إنِّی صَائِمٌ۔
(٩٥٣٢) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت قیس بن حازم کے پاس آیا، انھوں نے میرے لیے کوئی پینے کی چیز منگوائی اور مجھ سے فرمایا کہ اسے پیو، میں نے کہا کہ میں نہیں پینا چاہتا۔ انھوں نے پوچھا کیا تمہارا روزہ ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے یا پینے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔