(۹۵۳۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ یَأْکُلُ ، فَقَالَ : اُدْنُ فَکُلْ ، قَالَ : قُلْتُ : إنِّی صَائِمٌ ، قَالَ : فَلَعَلَّک مِمَّنْ یَزْعُمُ أَنَّہُ صَائِمٌ وَلَیْسَ بِصَائِمٍ ، قُلْتُ : سُبْحَانَ اللہِ ، قَالَ : قَدْ کَانَ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْک یَصُومُ ثَلاَثَۃَ أَیَامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ، ثُمَّ یَقُولُ : إنِّی صَائِمٌ۔
(٩٥٣٨) حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں ابو مجلز کے پاس حاضر ہوا اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ قریب آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ حضرت ابومجلز نے فرمایا کہ شاید آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا روزہ نہیں ہوتا لیکن وہ یہ خاسل کرتے ہیں کہ ان کا روزہ ہے ! میں نے کہا کہ اللہ پاک ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو ذات تم سے بہتر تھی وہ ہر مہینے تین روزے رکھا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ میرا روزہ ہے۔