(۹۵۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاَن وَافِدَان أَعْرَابِیَّان ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمُسْلِمَانِ أَنْتُمَا ؟ قَالاَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَہُمَا : أَہْلَلْتُمَا ؟ قَالاَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ النَّاسَ فَفطِرُوا ، أَوْ صَامُوا۔ (دارقطنی ۱۶۷)
(٩٥٦١) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو دیہاتی اکٹھے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا کہ کیا تم دونوں مسلمان ہو ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے چاند دیکھا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو روزہ رکھنے یا عید منانے کا حکم دے دیا۔