(۹۵۶۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَرَأَیْتَ إِنْ أَصْبَحَ أَہْلُ مَکَّۃَ مُفْطِرِینَ ، أَوْ رَجُلٌ ، أَوْ رَجُلاَنِ ، ثُمَّ جَائَہُمْ أَنْ قَدْ رُئِیَ الْہِلاَلُ ، فَجَائَہُمُ الْخَبَرُ بِذَلِکَ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ ، أَوْ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ، کَانُوا یَصُومُونَ بَقِیَّۃَ یَوْمِہِمْ ، أَوْ یَقْضُونَہُ بَعْدُ ؟ قَالَ : یَأْکُلُونَ وَیَشْرَبُونَ إِنْ شَاؤُوا ، وَلَمْ یُوجِبْ عَلَیْہِمْ أَنْ یَصُومُوا بَقِیَّتہ۔
(٩٥٦٩) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کہا کہ اگر مکہ کے کچھ لوگ روزہ دار نہ ہونے کی حالت میں صبح کریں، یا ایک یا دو آدمی روزہ دار نہ ہونے کی حالت میں صبح کریں، پھر کچھ دیر بعد کوئی آدمی آئے اور کہے کہ گزشتہ رات چاند دیکھ لیا گیا تھا، یہ خبر ان کے پاس دن کے ابتدائی یا انتہائی حصہ میں آئی، تو کیا وہ باقی دن روزہ رکھیں یا بعد میں اس روزے کی قضا کریں۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر وہ چاہیں تو کھاتے پیتے رہیں باقی دن میں روزہ رکھنا ان پر ضروری نہیں ہے۔