hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9587

.

ابن أبي شيبة

9587
Ibn Abi Shaybah
(۹۵۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَصْبَحْنَا یَوْمًا بِالْبَصْرَۃِ ، وَلَسْنَا نَدْرِی عَلَی مَا نَحْنُ فِیہِ مِنْ صَوْمِنَا فِی الْیَوْمِ الَّذِی یُشَکُّ فِیہِ ، فَأَتَیْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ، فَإِذَا ہُوَ قَدْ أَخَذَ خزیرۃ کَانَ یَأْخُذُہَا قَبْلَ أَنْ یَغْدُوَ ، ثُمَّ غَدَوْا ، ثُمَّ أَتَیْتُ أَبَا السَّوَّارِ الْعَتَکِیَّ فَدَعَا بِغَدَائِہِ ، ثُمَّ تَغَدَّی ، ثُمَّ أَتَیْتُ مُسْلِمَ بْنَ یَسَارٍ فَوَجَدْتُہُ مُفْطِرًا۔
(٩٥٨٧) حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے اور ہمیں ٣٠ شعبان کے دن اس یوم شک کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس دن روزہ ہے یا نہیں ہے۔ چنانچہ ہم حضرت انس بن مالک کے پاس آئے، وہ خزیرہ نامی ایک کھانا جو دوپہر کے کھانے سے پہلے کھایا کرتے تھے وہ کھا رہے تھے۔ پھر وہاں موجود سب لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر میں ابو سوار عدوی کے پاس آیا انھوں نے بھی اپنا کھانا منگوا کرکھایا۔ پھر میں حضرت مسلم بن یسار کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ان کا بھی روزہ نہیں تھا۔