(۹۶۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ، عَنْ أَبِی یَعْفُورٍ، عَنْ أَبِی الصَّلْتِ، عَنْ أَبِی عَقْرَبٍ الأَسَدِیِّ، قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ فِی دَارِہِ فَوَجَدْنَاہُ فَوْقَ الْبَیْتِ ، فَسَمِعَنَاہُ یَقُولُ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ : صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعْنَاک تَقُولُ: صَدَقَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، فَقَالَ: لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فِی السَّبْعِ مِنَ النِّصْفِ الآخِرِ، وَذَلِکَ أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ بَیْضَائَ لاَ شُعَاعَ لَہَا ، فَنَظَرْتُ إلَی الشَّمْسِ فَوَجَدْتُہَا کَمَا حُدِّثْتُ ، فَکَبَّرْت۔
(٩٦٠٢) حضرت ابو عقرب اسدی کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انھیں کمرے کی چھت پر موجود پایا، ہم نے سنا کہ وہ نیچے اترنے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم نے آپ کو سنا کہ آپ نے نیچے اترنے سے پہلے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کے دوسرے نصف کے سات دنوں میں ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ اس رات میں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو سفید ہوتا ہے اور کرنوں کے بغیر ہوتا ہے۔ جب میں نے سورج کو دیکھا تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں مجھے بتایا گیا تھا، چنانچہ میں نے خوشی سے اللہ کی کبریائی بیان کی۔