hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9606

.

ابن أبي شيبة

9606
Ibn Abi Shaybah
(۹۶۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِی مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ الْوُسْطَی ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : کَانَ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْہَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَخْبِرْنَا بِہَا ، فَقَالَ : لَوْ أُذِنَ لِی فِیہَا لأَخْبَرْتُکُمْ ، وَلَکِنِ الْتَمِسُوہَا فِی إحْدَی السَّبْعَیْنَ، ثُمَّ لاَ تَسْأَلْنِی عَنْہَا بَعْدَ مُقَامِکَ ، أَوْ مُقَامِی ہَذَا۔
(٩٦٠٦) حضرت ابو مرثد فرماتے ہیں کہ میں جمرہ وسطیٰ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری کے پاس تھا۔ میں نے ان سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شب قدر کے بارے میں سب سے زیادہ سوال میں کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شبِ قدر انبیاء کے زمانوں میں ہوتی ہے، جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جاتے تو یہ رات بھی اٹھا لی جاتی تھی، کیا ایسا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ شبِ قدر قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! پھر مجھے اس کے بارے میں بتا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے اس کے بتانے کی اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا۔ البتہ میں اتنا کہوں گا کہ تم اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں سے ایک میں تلاش کرو۔ اب تم مجھ سے اس بارے میں سوال مت کرنا۔