(۹۶۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أُتیتُ فِی رَمَضَانَ وَأَنَا نَائِمٌ فَقِیلَ: إنَّ اللَّیْلَۃَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْت بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی، فَنَظَرْت فِی اللَّیْلَۃِ فَإِذَا ہِیَ لَیْلَۃُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الشَّیْطَانُ یَطْلُعُ مَعَ الشَّمْسِ کُلَّ یَوْمٍ إِلاَّ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، قَالَ: وَذَلِکَ أَنَّہَا تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لاَ شُعَاعَ لَہَا۔
(٩٦١٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں سویا ہوا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج شبِ قدر ہے۔ میں نیند کی حالت میں بیدار ہوا اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خیمہ کی ایکرسی کو پکڑ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے رات کا اندازہ لگایا تو وہ رمضان کی تیئسویں رات تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ شیطان شبِ قدر کے علاوہ ہر رات سورج کے ساتھ برآمد ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شب قدر کے دن سورج سفید حالت میں بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔