(۹۶۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرَأَیْتَ رَجُلاً یَصُومُ الدَّہْرَ کُلَّہُ ؟ قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّہُ لاَ یَطْعَمُ الدَّہْرَ کُلَّہُ ، قَالَ : ثُلُثَیْہِ ؟ قَالَ : أَکْثَرُ ، قَالَ : نِصْفَہُ ؟ قَالَ : أَکْثَرُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أُنَبِّئُکُمْ مَا یُذْہِبُ وَحْر الصَّدْرِ : صِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔
(٩٦٤٨) حضرت عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا کوئی آدمی صوم دہر رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں وہ پورے دہرکا روزہ نہ رکھے۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ اس کے دو تہائی کا رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اس نے کہا کہ نصفِ دہر کا روزہ رکھ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی مقدار بتاتا ہوں جس سے اس کے دل کے وساوس اور کھوٹ دور ہوجائیں گے، وہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے۔