(۹۷۰۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ مَرَّتَیْنِ ، وَطَبَّقَ الثَّالِثَۃَ ، وَقَبَضَ الإِبْہَامَ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : غَفَرَ اللَّہُ لأَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إنَّمَا ہَجَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِسَائَہُ شَہْرًا ، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِینَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّک آلَیْتَ شَہْرًا ؟ فَقَالَ : وَإنَّ الشَّہْرَ یَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ۔ (احمد ۲/۳۱)
(٩٧٠١) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو مرتبہ پورا پورا کھولا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند رکھا۔ حضرت عائشہ نے جب حضرت ابن عمر کی روایت سنی تو فرمایا کہ اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے۔ دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہینے تک کے لیے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا تھا۔ آپ انتیس دن بعد تشریف لے آئے تو لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔