(۹۷۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : جَائَ حُذَیْفَۃُ إلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ: أَلاَ أَعْجَبَک مِنْ قَوْمٍ عُکُوفٍ بَیْنَ دَارِکَ وَبَیْنَ دَارِ الأَشْعَرِیِّ، یَعْنِی: الْمَسْجِدَ؟ قَالَ عَبْدُ اللہِ :فَلَعَلَّہُمْ أَصَابُوا وَأَخْطَأْت ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : أَمَا عَلِمْت أَنَّہُ لاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ ؛ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَی ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أُبَالِی اعْتَکَفْتُ فِیہِ ، أَوْ فِی سُوقِکُمْ ہَذِہِ۔
(٩٧٦٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا کہ کیا آپ کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو آپ کے اور اشعری کے گھر کے بیچ یعنی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ شاید وہ ٹھیک ہیں اور آپ غلطی پر ہیں۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ اعتکاف صرف تین مسجدوں میں ہوتا ہے۔ ایک مسجد حرام، دوسری مسجد اقصیٰ اور تیسری مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، میرے خیال میں اس مسجد میں جس میں وہ لوگ اعتکاف میں بیٹھے ہیں، اعتکاف کرنا اور بازار میں اعتکاف کرنا برابر ہے۔