(۹۸۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ ؟ قَالَ : لاَ تَصُومُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ إِلاَّ الْفَرِیضَۃَ ، فَإِنْ فَعَلَتْ أَثَمَتْ ، وَلَمْ یُقْبَلْ مِنْہَا۔ (ابوداؤد ۱۹۵۱)
(٩٨٠٢) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! خاوند کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ گناہ گار ہوگی اور اس کا یہ عمل قبول نہ ہوگا۔