(۹۸۱۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ ، قَالَ : ذُکِرَ عِنْدَ الْحَسَنِ أَنَّ صِیَامَ عَرَفَۃَ یَعْدِلُ صِیَامَ سَنَۃٍ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا أَعْلَمُ لِیَوْمٍ فَضْلاً عَلَی یَوْمٍ ، وَلاَ لِلَیْلَۃٍ عَلَی لَیْلَۃٍ ، إِلاَّ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فَإِنَّہَا خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ صَامَ یَوْمَ عَرَفَۃَ ، یَرُشُّ عَلَیْہِ الْمَائَ مِنْ إدَاوَۃٍ مَعَہُ ، یَتَبَرَّدُ بِہِ۔
(٩٨١٥) حضرت حمید الطویل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسن کے سامنے ذکر کیا گیا کہ یوم عرفہ کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔ یہ سن کر حضرت حسن نے فرمایا کہ میرے خیال میں کسی دن کو دوسرے دن پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اور سوائے لیلۃ القدر کے کسی دوسری رات کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ شبِ قدر ایک ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ میں نے حضرت عثمان بن ابی العاص کو دیکھا کہ وہ یوم عرفہ کو روزہ رکھا کرتے تھے تو سخت گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک کی خاطر ان پر پانی چھڑکا جاتا تھا۔