(۹۸۲۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ جُرَیْجٍ فَذَکَرَ ، عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ رَجُلاً أَہَلَّ ہِلاَلاً بِفَلاَۃٍ مِنَ الأَرْضِ ، قَالَ : فَسَمِعَ قَائِلاً یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالأَمْنِ وَالإِیمَانِ ، وَالسَّلاَمَۃِ وَالإِسْلاَمِ ، وَالْہُدَی وَالْمَغْفِرَۃِ ، وَالتَّوْفِیقِ لِمَا تَرْضَی ، وَالْحِفْظِ مِمَّا تَسْخَطُ ، رَبِّی وَرَبُّک اللَّہُ ، قَالَ : فَلَمْ یَزَلْ یُلْقیہنَّ حَتَّی حَفِظْتُہُنَّ ، وَمَا أرََی أَحَدًا۔
(٩٨٢٧) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب ایک ویرانے میں اسے چاند نظر آیا تو اس نے یہ کلمات کہے (ترجمہ) اے اللہ ! اس چاند کو ہم پر امن وایمان، سلامتی وسلام، ہدایت و مغفرت اور ایسی توفیق کے ساتھ طلوع فرما جس سے تو راضی ہو، ان کاموں سے حفاظت عطا فرما جو تیری ناراضگی کا سبب ہوں۔ میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ مسلسل یہ کلمات کہتا رہا یہاں تک کہ میں نے انھیں زبانی یاد کرلیا۔ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے نہیں دیکھا۔