(۹۸۵۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صِیَامِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : کَانَ یَصُومُ حَتَّی نَقُولَ : لاَ یُفْطِرُ ، وَیُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ : لاَ یَصُومُ ، وَلَمْ أَرَہُ فِی شَہْرٍ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْہُ فِی شَعْبَانَ ، کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِیلاً ، بَلْ کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ۔ (بخاری ۱۹۱۹۔ ابوداؤد ۲۴۲۶)
(٩٨٥٥) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مہینے میں اس طرح مسلسل روزہ رکھتے تو ہم محسوس کرتے کہ آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے اور کبھی آپ اس طرح روزہ رکھنے چھوڑتے کہ ہمیں محسوس ہوتا کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ آپ سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے۔ آپ شعبان میں کم روزے نہ رکھتے تھے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے۔