hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9879

.

ابن أبي شيبة

9879
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَلَکْتُ ، قَالَ : وَمَا أَہْلَکَکَ ؟ قَالَ : وَقَعْت عَلَی امْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ ، قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ ، قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، قَالَ : اجْلِسْ فَجَلَسَ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذَلِکَ إذْ أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہِ ، قَالَ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَفْقَرُ إلَیْہِ مِنَّا ، قَالَ: فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ ، فَأَطْعِمْہُ عِیَالَک۔ (بخاری۶۷۱۱۔ مسلم ۸۱)
(٩٨٧٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں، میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا میرے پاس تو کوئی غلام نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ دو مہینے روزے رکھو۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ نے اسے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اور اسے صدقہ کردو۔ اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے زیادہ نادار گھر کسی کا نہیں۔ اس کی یہ بات سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو ۔