(۹۸۸۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَذَکَرَ أَنَّہُ احْتَرَقَ ، فَسَأَلَہُ عَنْ أَمْرِہِ ، فَذَکَرَ أَنَّہُ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ ، فَأُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِکْتَلٍ یُدْعَی الْعَرْْقُ ، فِیہِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : أَیْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَہُ : تَصَدَّقْ بِہَذَا۔ (بخاری ۶۸۲۲۔ ابوداؤد ۲۳۸۶)
(٩٨٨١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میں جل گیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی حقیقت پوچھی تو اس نے کہا کہ میں رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ کچھ دیر بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے پوچھا کہ وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ آدمی کھڑا ہوا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ اس کو صدقہ کردو۔