hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9896

.

ابن أبي شيبة

9896
Ibn Abi Shaybah
(۹۸۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: حدَّثَنِی عَوْنُ بْنُ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِیرٍ یَذْکُرُ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّہَارِ ، قَالَ : فَجَائَہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ ، مُجْتَابِی النِّمَارِ ، عَلَیْہِمُ السُّیُوفُ وَالْعَمَائِمُ ، عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ ، بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ تَغَیُّرًا لِمَا رَأَی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی ، ثُمَّ قَالَ : {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ} ، ثُمَّ قَرَأَ إلَی آخِرِ الآیَۃِ : {وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَائَلُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ} ، {اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِینَارِہِ وَمِنْ دِرْہَمِہِ ، وَمِنْ ثَوْبِہِ وَمِنْ صَاعِ بُرِّہِ ، یَعْنِی الْحِنْطَۃَ ، وَمِنْ صَاعِ تَمْرِہِ حَتَّی قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ قَدْ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجَزُ عَنْہَا ، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ ، قَالَ : ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَأَیْت کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَہَلَّلُ، کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ ، فَقَالَ: مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً حَسَنَۃً ، أَوْ صَالِحَۃً فَاسْتُنَّ بِہَا بَعْدَہُ ، کَانَ لَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ، لاَ یَنْتَقِصُ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ فِی الإِسْلاَمِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَاسْتُنَّ بِہَا بَعْدَہُ، کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہ وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ، لاَ یَنْتَقِصُ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئًا۔(مسلم ۷۰۶۔ احمد ۴/۳۵۹)
(٩٨٩٦) حضرت جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں صبح کے وقت حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم حاضر ہوئی جو تنگ دست تھے سفید اور کالے لباس میں ملبوس تھے، ان پر تلواریں تھیں اور عمامے تھے، اکثر کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ میں تو کہوں گا سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا، ان کی تنگ دستی کی حالت کو دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لوگوں کو نماز پڑھائی، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” اے لوگو ! ڈرو اس رب سے جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا “ پھر آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی، اور اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد۔ کی تلاوت فرمائی۔ (اور حکم دیا کہ) لوگو ! صدقہ کرو دینار میں سے، درھم میں سے، کپڑوں میں سے، گندم میں سے اور کھجور میں سے یہاں تک کہ اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
اتنے میں ایک انصاری شخص تھیلی اٹھا کر آیا اور اس کی ہتھیلی اس کے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے، پھر باقی لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کے دو ڈھیر لگ لئے۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کو دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور سونے کی طرح چمکنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
” جو شخص اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ جاری کرے گا، اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس کو اپنے اجر کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس پر اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے ان لوگوں کے گناہوں میں کمی کئے بغیر “ ، ،