(۹۹۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیدِ ، یَوْمَ الْفِطْرِ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ تَیْنِکَ الرَّکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ یَقُومُ فَیَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَہُمْ جُلُوسٌ فَیَقُولُ : تَصَدَّقُوا ، تَصَدَّقُوا : فَکَانَ أَکْثَرَ مَنْ تَصَدَّقَ النِّسَائُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّیْئِ۔ (بخاری ۱۴۶۲۔ مسلم ۶۰۵)
(٩٩٠١) حضرت ابو سعید خدی سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن نکلے (عید گاہ کی طرف) اور لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف چہرہ کر کے کھڑے ہوگئے جب کہ لوگ سارے بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صدقہ کرو، صدقہ کرو “۔ پس عورتوں نے اپنی انگوٹھیاں اور کان کی بالیاں سب سے زیادہ صدقہ کیں۔