(۹۹۰۶) حَدَّثَنَا عُمَر بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ رَاہِبًا عَبَدَ اللَّہَ فِی صَوْمَعَۃ سِتِّینَ سَنَۃً ، فَجَائَتِ امْرَأَۃٌ فَنَزَلَتْ إلَی جَنْبِہِ ، فَنَزَلَ إلَیْہَا فَوَاقَعَہَا سِتَّ لَیَالٍ ، ثُمَّ أُسقِط فِی یَدِہِ ، ثُمَّ ہَرَبَ ، فَأَتَی مَسْجِدًا فَأَوَی فِیہِ ، فَمَکَثَ ثَلاَثًا لاَ یَطْعَمُ شَیْئًا ، فَأُتِیَ بِرَغِیفٍ فَکَسَرَ نِصْفَہُ ، فَأَعْطَاہُ رَجُلاً عَنْ یَمِینِہِ ، وَأَعْطَی الآخَرَ عَنْ یَسَارِہِ ، ثُمَّ بُعِثَ إلَیْہِ مَلَکٌ فَقَبَضَ رُوحَہُ ، فَوُضِعَ عَمَلُ سِتِّینَ سَنَۃً فِی کِفَّۃٍ ، وَوُضِعَتِ السَّیِّئَۃُ فِی أُخْرَی ، فَرَجَحَتْ ، ثُمَّ جِیئَ بِالرَّغِیفِ ، فَرَجَحَ بِالسَّیِّئَۃِ۔
(٩٩٠٦) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک راہب ساٹھ سال تک اپنے عبادت خانے میں (عبادت میں مصروف) رہا، اس کے پڑوس میں ایک عورت آئی تو وہ راہب چھ راتوں تک اس کے پاس جاتا رہا پھر اپنے اس عمل کی پشیمانی کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر ایک مسجد میں پناہ لے لی اور تین دن تک مسجد میں کچھ کھائے پیئے بغیر رہا، (تین دن بعد) اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی تو اس نے اس کے دو حصے کر کے آدھی دائیں جانب والے شخص کو دیدی اور آدھی روٹی بائیں جانب والے شخص کو دیدی۔ پھر ملک الموت نے آ کر اس راہب کی روح قبض کرلی اور اس کے ساٹھ سال کے اعمال ایک ترازو میں رکھے گئے اور گناہ دوسرے پلڑے میں تو وہ گناہوں والا پلڑا جھک گیا، پھر وہ روٹی لائی گئی (جو اس نے صدقہ کی تھی) اس روٹی کے رکھنے سے نیکیوں والا پلڑا گناہوں والے پلڑے سے جھک گیا۔