(۹۹۱۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ مَوْلَی بَنِی عَامِرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ بِشْرٍ السَّکْسَکِیِّ ، قَالَ: بَعَثَہُ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بِکُِسْوَۃٍ إلَی الْکَعْبَۃِ ، فَلَمَّا أَتَی تَیْمَائَ جَائَہُ سَائِلٌ فَسَأَلَ ، قَالَ : فَقَالَ : تَصَدَّقُوا ، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ تُنْجِی مِنْ سَبْعِینَ بَابًا مِنَ الشَّرِّ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ ہَاہُنَا أَفْقَہُ ؟ قَالُوا : نُسَیٌّ ، رَجُلٌ مِنَ الْیَہُودِ ، فَأَتَیْتُ الدَّارَ ، فَقُلْتُ : ثَمَّ نُسَیٌّ ؟ فَأَشْرَفَتْ عَلَیَّ امْرَأَتُہُ ، فَأَذِنَتْ لِی فَدخلتُ عَلَیْہِ ، فَلَمَّا رَآنِی تَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَہُ : مَا شَأْنُکَ حِینَ رَأَیْتَنِی تَوَضَّأْتَ ؟ قَالَ : إنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ : یَا مُوسَی ، تَوَضَّأْ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَصَابَتْک مُصِیبَۃٌ فَلاَ تَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَک ۔ قَالَ : قُلْتُ : إنَّ سَائِلاً یَسْأَلُ ، فَقَالَ : تَصَدَّقُوا ، فَإِنَّ الصَّدَقَۃَ تُنْجِی مِنْ سَبْعِینَ بَابًا مِنَ الشَّرِّ، قَالَ : صَدَقَ ، فَذَکَرَ أَشیائَ مِنَ الْمَنَایَا ، وَہَدْمِ الْحَائِطِ ، وَوَقْصِ الدَّابَّۃِ ، وَالْغَرَقِ مِمَّا شَائَ اللَّہ مِمَّا عُدَّ مِنَ الْمَنَایَا ، قَالَ : قُلْتُ : وَتُنَجِّی مِنَ النَّارِ۔
(٩٩١٠) حضرت یزید بن بشر السکسکی فرماتے ہیں کہ یزید بن عبد الملک نے مجھے ایک کپڑا دے کر کعبہ کی طرف بھیجا، جب میں مقام تیماء میں پہنچا تو ایک سائل آیا اور کہنے لگا۔ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے، میں نے پوچھا (لوگوں سے) یہاں پر سب سے بڑا فقیہ کون ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نُسیّ نامی یہود میں سے ایک شخص ہے۔ میں اس کے مکان پر آیا اور آواز دی کہ نسی ہے ؟ ایک عورت نے جھانکا اور مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت دیدی، جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے وضو کیا۔ میں نے اس سے پوچھا جب تو نے مجھے دیکھا تو وضو کیا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمایا تھا اے موسیٰ ! وضو کیا کر اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو تجھے بہت سی مصیبت پہنچے گی پھر تو اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ ایک سائل سوال کرتے ہوئے یوں کہہ رہا تھا کہ صدقہ کرو بیشک صدقہ شر کے ستر دروازوں سے انسان کو نجات دیتا ہے۔
کہنے لگا اس نے سچ کہا ہے پھر موت، دیوار کا گرنا، جانور کا ہلاک ہونا اور غرق ہونا اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ چاہے جو شمار کرے موتوں میں سے، میں نے عرض کیا اور صدقہ نجات دیتا ہے جہنم کی آگ سے۔