(۹۹۳۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتُ بْن قَیْسٍ ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَیَأْتِیکُمْ رَکْبٌ مُبْغَضُونَ ، فَإِنْ جَاؤُوکُمْ فَرَحِّبُوا بِہِمْ ، وَخَلُّوا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَبْغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلأَنْفُسِہِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَیْہِمْ ، وَأَرْضُوہُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَکَاتِکُمْ رِضَاہُمْ ، وَلْیَدْعُوا لَکُمْ۔
(٩٩٣٢) حضرت جابر بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب تمہارے پاس ناپسندیدہ سوار آئیں گے، لیکن جب وہ تمہارے پاس (زکوۃ وصول کرنے کیلئے) آئیں تو تم ان کو خوش آمدید کہو اور ان کیلئے کشادگی کرو، اور چھوڑ دو ان کے درمائن وہ چیز جس میں وہ زیادتی کریں، پس اگر وہ انصاف کریں گے تو اپنے نفسوں کیلئے اور اگر ظلم کریں تو ان کا وبال خود ان پر ہے اور تمہیں چاہیے کہ تم ان کو راضی کردو بیشک تمہاری زکوۃ کا اتمام (مکمل ہونا) ان کی رضا مندی ہے اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ تمہارے لیے دعا کریں۔