(۹۹۷۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إِبْرَاہِیمَ عَن رَجُلٍ لَہُ مِئَۃ دِرْہَمٍ وَعَشَرَۃُ دَنَانِیرَ ؟ قَالَ : یُزَکِّی مِنَ الْمِئَۃِ دِرْہَم دِرْہَمَیْنِ وَنصفًا ، وَمِنَ الدَّنَانِیرِ بِرُبْعِ دِینَارٍ ۔ قَالَ : وَسَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ ، فَقَالَ : یُحْمَلُ الأَکْثَرُ عَلَی الأَقَلِّ ۔ أَوَ قَالَ : الأَقَلُّ عَلَی الأَکْثَرِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ فِیہِ الزَّکَاۃُ زَکَّاہ۔
(٩٩٧٨) حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کسی کے پاس سو درھم اور دس دینار ہوں تو اس پر کتنی زکوۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا : سو دراہم میں اڑھائی درہم اور دینار میں ربع دینار زکوۃ ادا کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ کہ پھر میں نے امام شعبی سے یہی سوال کیا ! انھوں نے فرمایا : اکثر کو اقل پر محمول کریں گے یا فرمایا (راوی کو شک ہے) اقل کو اکثر پر محمول کریں گے، اور جب وہ نصاب زکوۃ کی مقدار کو پہنچ جائیں تو اس میں زکوۃ ہے۔