hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 9981

.

ابن أبي شيبة

9981
Ibn Abi Shaybah
(۹۹۸۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ کِتَابَ الصَّدَقَۃِ فَقَرَنَہُ بِسَیْفِہِ ، أَوَ قَالَ : بِوَصِیَّتِہِ ، وَلَمْ یُخْرِجْہُ حَتَّی قُبِضَ ، فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی ہَلَکَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِہِ عُمَرُ ، فَکَانَ فِیہِ : فِی خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاۃٌ ، وَفِی عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَفِی خَمْسَۃَ عَشَرَ ثَلاَثُ شِیَاہٍ ، وَفِی عِشْرِینَ أَرْبَعُ شِیَاہٍ ، وَفِی خَمْسٍ وَعِشْرِینَ بِنْتُ مَخَاضٍ إلَی خَمْسٍ وَثَلاَثِینَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِیہَا بِنْتُ لَبُونٍ إلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَحِقَّۃٌ إلَی سِتِّینَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَجَذَعَۃٌ إلَی خَمْسٍ وَسَبْعِینَ ، فَإِنْ زَادَتْ فَابْنَتَا لَبُونٍ إلَی تِسْعِینَ ، فَإِنْ زَادَتْ فَحِقَّتَانِ إلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ فَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ ، وَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ ، لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ ، فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِیَّۃِ۔ (ترمذی ۶۲۱۔ ابوداؤد ۱۵۶۲)
(٩٩٨١) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے احکام لکھوائے اور ان کو تلوار کے ساتھ ملا کررکھایا (راوی کو شک ہے) وصیت کیساتھ، اور اس کو نکالا نہیں یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض کرلی گئی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے تشریف لے گئے تو اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے عمل کیا یہاں تک کہ صدیق اکبر بھی دنیا سے چلے گئے پھر اس پر حضرت عمر نے عمل کیا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے، دس پر دو بکریاں، پندرہ پہ تین بکریاں، بیس پہ چار بکریاں، پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض (ایک سال کا اونٹ جس کا دوسرا سال چل رہا ہو) ہے پینتیس تک، اور جب پینتیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ایک بنت لبون (دو سال کا اونٹ جس کا تیسرا چل رہا ہو) ہے پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ساٹھ تک ایک حقہ ہے (تین سال کا اونٹ جس کا چوتھا چل رہا ہو) اور جب ساٹھ سے زائد ہوجائیں تو ان پر جذعہ (چار سال کا اونٹ جس کا پانچواں سال چل رہا ہو) ہے پچھتر تک، پھر جب پچھتر سے زائد ہوجائیں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اور پھر نوے سے زائد ہوجائیں تو ایک سو بیس تک اس پر دو حقے ہیں، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون ہے، متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا (اگر مویشی متفرق اور متعدد جگہوں میں ہیں تو انھیں زکوۃ لیتے وقت یا دیتے وقت ایک جگہ جمع نہیں کیا جائے گا اور ایک جگہ ہیں تو انھیں متعدد جگہوں اور چراگاہوں مں ع تقسیم نہیں کیا جائے گا ۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے یہاں مکان اور چراگاہ کے مختلف اور متعدد ہونے سے زکوۃ میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کے ہاں صرف ملک کا اختلاف اور تعدد زکوۃ پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے اس حدیث کی تفریق و اجتماع سے صرف ملکیت کی حد تک تعدد اور اجتماع مراد ہے) ، اور دو شریک اپنا حساب خود آپس میں برابر کرلیں گے (یعنی دو آدمی کسی کام تجارت وغیرہ میں شریک ہیں تو جب زکوۃ وصول کرنے والا افسر آئے گا تو وہ اس کا انتظار نہیں کرے گا کہ یہ شرکاء اپنے مال کو تقسیم کرلیں اور پھر ان کے سرمایہ سے الگ الگ زکوۃ لی جائے بلکہ پورے سرمایہ میں جو زکوۃ واجب ہوگی افسر اس واجب زکوۃ کو لے لے گا، اب یہ شرکاء کا کام ہے کہ حساب کے مطابق واجب شدہ زکوۃ کے حصے تقسیم کریں) ۔